ماں کی بد دعا

271

ماں کی بد دعا

حقوق اشاعتِ(copyright)صرف ہمارے پاس محفوظ ہیں۔اسےبغیراجازت چھاپنا،نقل کرنا،غیرقانونی ہے۔

خاورنعیم ہاشمی میڈیاگروپ

 

آج جب میں کالم تحریر کرنے بیٹھا تو میرا گیارہ سالہ  بیٹا  آغا حسام میرے لئے شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کی کتاب بالِ جبریل مجھے تحفہ دینے کے لئے لایا اور اسرار کرنے لگا کہ بابا آپ آج کا کالم مجھ اور میرے اس  تحفے پر تحریر کریں

میں نے پدرانہ شفقت سے اپنے بیٹے کو چوما اور سینے سے لگایا اور مجھے اپنے والد  صاحب یاد آ گئے جو ہمیشہ مجھے کتب لا کر دیا کرتے تھے  اور میں اپنے باپ سے لپٹ جایا کرتا تھا یہ وہ زمانہ تھا جب گھروں میں الیکٹرانک گیجٹ کے بجائے لائبریری ہوا کرتی تھیں جو بچے کتب نہیں خرید سکتے تھے  وہ محلے کی لائبریری سے کتب لا کر اپنے  شوق کی تکمیل کیا کرتے تھے

خیر میں نے اپنے بیٹے سے وعدہ تو کر لیا  کہ میں شاعر شرق علامہ محمد اقبال کی شخصیت بال جبریل پر کالم لکھوں۔

مگر کل کے ایک افسوس ناک واقعہ  نے مجھے اپنے بیٹے سے عہد شکنی کرنے پر مجبور کر دیا  جس طرح آج کے سیاست دان عام عوام سے عہد شکنی کرنے کے عادی ہو چکے ہیں  اور  اپنی حلف شکنی  کی وجہ سے  زندگی بھر کے لئے  سیاست کے میدان میں سپریم کورٹ  کے حکم سے نا اہل قرار دے دیئے گئے۔

کل ایک معصوم   اور کمسن بچہ نا اہل وزیر اعظم کے پروٹوکول کی گاڑی کے نیچے آ کر کچلا گیا  وہ بھی اپنے والدین کو بہت پیارا تھا ۔

میں نے سوچا کہ بیٹے کی دی ہوئی کتاب  اور اس پر پھر کبھی کالم تحریر کر لوں گا  مگر آج کا دن اس معصوم بچے کا حق ہے کہ میں  ایمان داری سے  قلم اٹھا کر نہ صرف  اس کی ہلاکت کا واقع بیان کروں بلکہ  چند حقائق سے پردہ اٹھاؤں  جو‘‘ عام عوام ’’کی نظروں سے اوجھل ہیں۔

ان حقائق کا ثبوت میرے پاس ویڈیو کی صورت میں مظلوم خاندان کی امانت ہے  وہ جب چاہیں  لے لیں سب سے پہلے موقع کے گواہ  ‘‘عاصم مسعود ’’جو محلہ رحمت آباد کے  رہائشی اور ‘‘  جے ،یو،آئی وارڈ  نمبر 24 ’’  کے صدر ہیں ان کا بیان ہے ۔

 اُنہوں نے  اپنے بیان میں کہا کہ ‘‘  حامد ’’سڑک پر  مارک کی ہوئی  ‘‘پیلی لائین’’  سے پیچھے کھڑا تھا  میاں محمد نواز شریف  کے  قافلے کی ایک  گاڑی نے اس کا پاؤں کچلا کیونکہ یہ گاڑی ٹریفک کے اصول کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ‘‘پیلی لائین’’سے باہر چلتی آ رہی تھی جس  کی وجہ سے بچے کا  پاؤں کچل گیا اور وہ سڑک پر گر گیا  گاڑیوں کی رفتار ذیادہ تیز  نہ تھی ‘‘ جس کا اقرار رانا ثنا اللہ ایک ٹی ،وی بیان میں کر چکے ہیں ’’

بچے کے گرنے کے بعد گاڑی نمبر‘SS 875’’ نے بریک نہیں لگائی اور وہ بچے  کو روندتے ہوئے چلتی رہی  لوگوں کے دعوی کےمطابق اس گاڑی میں نواز شریف سوار  تھے  مگر  یہ حقیقت ہے کہ  اس   گاڑی کے بعد آنے والی گاڑی نے بھی بریک نہیں لگائی اور بچے کے جسم کو کچلتی گزر گئی اس کے بعد آنے والی گاڑی نے بریک لگائی اور  لوگوں نے بچے کو زخمی حالت میں سڑک سے اٹھا کر  ریسکیو 1122 والوں سے مدد کی  درخواست کی لیکن افسوس کہ  ‘‘اجل کے پنچوں سے جانوں کو بچا کر لانے والوں’’ نے  ایک معصوم بچے کی جان بچانےسے انکار کر دیا  اور موقع کے گواہ عاصم  مسعود  نے بچے کو اٹھایا اور سڑک سے دوسری طرف لے جا کر رکشہ میں ڈالا  اور قریبی عبداللہ ہسپتال  لے گئے راستے میں کئی ریسکیو 1122 کی  گاڑیوں سے مدد کی اپیل کی مگر  تمام ریسکیو والے   خادم اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے حکم سے صرف اور صرف  نا اہل وزیراعظم کی خدمت پر مامور تھے  

اور اس طرح  حامد  ‘‘عبد اللہ ہسپتال ’’ پہنچنے کے چند لمحوں بعد ہی اس جہاں فانی سے کوچ کر گیا

اس واقعہ کی خبر جب ان کے گھر پہنچی کہ ان کا اکلوتا بیٹا  ایک شہنشاہ عالم کی گاڑی سے ٹکرا کر ہلاک ہو گیا  ہے تو ‘‘حامد’’ کے والد کو اسی وقت ہارٹ اٹیک ہو گیا  اور حامد کی والدہ نے جو بددعا  دی  وہ مظلوم کے دل سے اٹھنے والی بددعا ہے  جو کبھی رائیگاں نہیں جائے گی  اس کی والدہ کے چند الفاظ میں یہاں تحریر کرتا چلوں  جو کچھ یوں ہیں

‘‘ سانوں انصاف چاہیدا  ایے۔نواز شریف توں میرے پتّر دا قاتل ایں۔ او  نواز شریف ! توں میرے  پتّر نوں مار دتّا ۔تیرا خانہ خراب ہوئے ۔ تیرا بیڑا غرک تیرا خاندان برباد ہوئے’’

یہ حقیقت ہے اور خدا اس بات کا گواہ ہے کہ  جنت ماں کے قدموں تلے ہوتی ہے جس کے متعلق آپ کو کئی احادیث مبارکہ ملیں گی کہ مظلوم کی بددعا عرش  پہ بیٹھا ہوا خدا سب سے پہلے سنتا ہے ۔

اس ماں نے یہ مقدمہ عرش پر بیٹھے ہوئے خدا کے سپرد کر دیا ہے  کیونکہ پنجاب پولیس نے اپنے مقدمے میں  محترم میاں محمد نواز شریف کا نام درج نہیں کیا  ۔ جبکہ ایک صحافی نے سوال  کیا کہ ‘‘ میاں صاحب آپ کی گاڑی کو نقصان تو نہیں ہوا؟؟ ’’     تو انہوں نے جواب دیا کہ نہیں‘‘  گاڑی کو کچھ نہیں ہوا  ’’ یہ وہ اقرار جرم ہے جو ثابت کرتا ہے کہ  ٹکر محترم میاں محمد نواز شریف کی ذاتی کار سے ہوئی اور وہ اس بات پر مطمئن ہیں کہ ‘‘ گاڑی کو کچھ نہیں ہوا’’  کیسے لیڈر صاحب ہیں کہ  انسان کی قیمت کچھ بھی نہیں  اور  مطمئن ہیں کہ اربوں روپے کی گاڑی کو کچھ نہیں ہوا

 اے حاکم وقت شاہد خاقان عباسی! اور اے خادم اعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف آپ  اس ماں کو اس کی اکلوتی اولاد  اس کا بیٹا ‘‘حامد ’’واپس لا کر دے سکتے ہیں ؟؟؟

یا آپ بھی اس  نا اہل وزیر اعظم کی طرح مطمئن ہیں کہ ‘‘ گاڑی کو کچھ نہیں ہوا’’

آج اس  معصوم بچے کے جنازے میں  نا تو  کوئی  مسلم لیگ (ن) کا کوئی کارکن تھا اور نہ ہی انتظامیہ کی جانب سے کوئی سرکاری افسر  تھا  اس کو بے حسی کہتے ہیں بقول  کیپٹن صفدر  یہ بچہ نئے پاکستان کا  پہلا شہید تھا تو کیا قومیں اپنے شہیدوں کو اس طرح دفن کرتی ہیں ؟؟؟؟ 

چند دن پہلے پاک افواج کے 4  جوان  دہشت گردوں سے مقابلہ کرتے ہوئے  شہید ہو گئے  ان کا جنازہ دیکھنے والا تھا اور بعد میں چیف آف دی آرمی سٹاف  مسٹر قمر  جاوید باجوہ اپنی اہلیہ کے ساتھ شہدا کے گھر گئے اور ان کے لئے دعائے خیر کی۔

یہ شہید کا جنازہ ہوتا ہے اور یہ طریقہ شہید کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا ہوتا ہے  مگر  سابق فوجی اور موجوہ شاہی حاندان کے داماد کیپٹن  صفدر ( ریٹائرڈ)   کو کیا پتہ کہ شہید کو خراج تحسین کیسے پیش کیا جاتا ہے ؟؟ 

 میرے چند سوالات ہیں ساحر لدھیانوی  کی زبان میں محمد نواز شریف صاحب اور اس بے حس انتظامیہ جن میں ریسکیو 1122 کے ڈی،جی ریسکیو  ڈاکٹر رضوان نصیر  اور  خادم  اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف سے بھی  ہیں  ان سوالات سے پہلے میرا ایک مطالبہ ہے کہ کیپٹن صفدر اگلے جلوس یا احتجاج میں اپنے بچوں کو ساتھ لے کر آئیں  شاید وہ بھی خوش قسمتی سے  اپنے نا نا  کا  نیا    پاکستان بناتے ہوئے ‘‘شہادت ’’ کے رتبہ سے فیض یاب ہوں۔

یہ روحیں کیسی روحیں ہیں؟

جو دھرتی کو ناپاک کریں !

 آنکھیں تو اٹھا نظریں تو ملا  !

اے رہبر ملک و قوم بتا !

یہ کس کا لہو ہے کون مرا ؟

یہ کس کا لہو ہے کون مرا ؟

columnist1958@gmail.com

 

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.